اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،مراکش کے شہریوں نے جمعہ کے روز پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ کیا، جس میں فلسطینی پرچم اٹھائے شرکاء نے فلسطینی عوام اور مسجدالاقصیٰ سے اظہار یکجہتی کیا۔ مظاہرین نے اسرائیل کی مذمت اور مراکش و اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے عمل کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔
فلسطین کے لیے مراکشی نیشنل ایکشن گروپ کے رابطہ کار السریتی نے کہا کہ مسجدالاقصیٰ خطرے میں ہے اور سب کو حرکت میں آنا ہوگا۔" ان کے مطابق مسجد کو درپیش خطرہ اب صرف حملوں اور آتش زنی تک محدود نہیں رہا بلکہ تباہی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
قدس گورنری کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 12 ستمبر سے یکم اکتوبر 2026 کے درمیان 11 ہزار 409 اسرائیلی آبادکار مسجدالاقصیٰ میں داخل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تعداد یہودی تہوار عرش کے ابتدائی پانچ دنوں میں مزید بڑھ گئی۔ 27 ستمبر سے یکم اکتوبر کے دوران 9 ہزار 138 آبادکار مسجدالاقصیٰ میں داخل ہوئے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ مسجدالاقصیٰ کے حوالے سے حالیہ مہینوں میں کشیدگی، فلسطینیوں پر پابندیوں اور وہاں نئی صورتحال مسلط کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے۔
رباط میں ہونے والا احتجاج صرف فلسطین سے اظہار یکجہتی تک محدود نہیں رہا بلکہ مظاہرین نے مراکش اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے عمل کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
مراکش کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات 2020 کے آخر میں بحال ہوئے تھے، تاہم اس اقدام کے خلاف مراکش کے مختلف سیاسی اور سول گروپس کی جانب سے وقتاً فوقتاً احتجاج کیا جاتا رہا ہے۔
مسجدالاقصیٰ پر حالیہ بڑھتے ہوئے حملوں کے پس منظر میں رباط میں ایک بار پھر احتجاج سامنے آیا ہے، جہاں مسجد کے مستقبل کے حوالے سے خدشات اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ مظاہرین کے اہم نکات میں شامل رہا۔
آپ کا تبصرہ